Dil Ko Mahroom Rukh e Yar Nahi Hone Diya Main Ne Yeh Aaina Zingar Nahi Hone Diya
دل کو محروم رُخِ یار نہیں ہونے دیا
میں نے یہ آئینہ زنگار نہیں ہونے دیا
Dil Ko Mahroom Rukh e Yar Nahi Hone Diya
Main Ne Yeh Aaina Zingar Nahi Hone Diya
میری تعمیر کے اب عیب نہ گنوائیں مجھے
آپ نے ٹھیک سے مسمار نہیں ہونے دیا
ہائے کیا خواب تھا وہ خواب کہ جس نے مجھ کو
عمر بھر نیند سے بیدار نہیں ہونے دیا
زندگی بھر ہی مرا کام بڑھائے رکھا
مجھ کو بیکاری نے بیکار نہیں ہونے دیا
اس مسیحا کی مسیحائی معمہ ٹھیری
جس نے مجھ کو کبھی بیمار نہیں ہونے دیا
غالباً سر کو جھکانے کی روش نے میری
سر مرا قابلِ دستار نہیں ہونے دیا
میں اسی دل کا طرفدار ہوں غائر جس نے
مجھ کو میرا ہی طرفدار نہیں ہونے دیا
کاشف حسین غائر
Kashif Husain Ghaer

Comments
Post a Comment