Doobny Wale Ko Tanky Ka Sahara Hota Jaty Jaty Jo Humain Us Ne Pukara Hota
ڈوبنے والے کو تنکے کا سہارا ہوتا
جاتے جاتے جو ہمیں اس نے پکارا ہوتا
Doobny Wale Ko Tanky Ka Sahara Hota
Jaty Jaty Jo Humain Us Ne Pukara Hota
آس کے پھول مہکتے، نہ ہی امید کے خواب
مدتوں بعد نہ زلفوں کو سنوارا ہوتا
فکر تو یہ ہے کہ اب خود ہی چکانا ہو گا
قرض جو جان پہ واجب ہے، اتارا ہوتا
بے کلی پھر وہی دل کی ہے، وہی دامِ قفس
اس تلاطم کا کوئی کاش کنارا ہوتا
کن خلاؤں میں سفر کرنے لگے ہیں ہم تم
عمرِ رفتہ کا کوئی نقش ابھارا ہوتا
گر کوئی تھی نہ خوشی، دکھ ہی میسر ہوتے
ساتھ رہنے کا کسی طور تو یارا ہوتا
بھولنے والے اگر غور کیا ہو تو نے
میری آنکھوں میں ترے غم کا ستارا ہوتا
شائستہ مفتی
Shaista Mufti

Comments
Post a Comment