Hijar Kafi Bas Saza Ke Liye Aur Kuch Pooch Mat Khuda Ke Liye
ہجر کافی ہے بس سزا کے لیے
اور کچھ پوچھ مت خدا کے لیے
Hijar Kafi Bas Saza Ke Liye
Aur Kuch Pooch Mat Khuda Ke Liye
ایک طوفاں اٹھا لے سر پہ نیا
مسئلہ کیا ہے اس ہوا کے لیے
زندگی داؤ پر لگا ئی تھی
سانس بھی بس بچا بچا کے لیے
دل میں بیٹھا ہے چھپ کے ڈر کیسا
ہاتھ اٹھتے نہیں دعا کے لیے
سر اٹھا کر نہ چلنے دیں گے ہمیں
چند سکے جو سر جھکا کے لیے
زندگی بھر بھرا سحر تاوان
دیکھ چھوٹی سی اک خطا کے لیے
یاسمین سحر
Yasmin Sahar

Comments
Post a Comment