Hudood e Jan Se Guzar Hoa Toh Muhabbaton Ka Pata Chaly Ga Muhabbaton Ki Nazar Hoa Toh Muhabbaton Ka Pata Chaly Ga
حدودِ جاں سے گزر ہوا تو محبتوں کا پتہ چلے گا
محبتوں کی نظر ہوا تو محبتوں کا پتہ چلے گا
Hudood e Jan Se Guzar Hoa Toh Muhabbaton Ka Pata Chaly Ga
Muhabbaton Ki Nazar Hoa Toh Muhabbaton Ka Pata Chaly Ga
وفا کا پودا شجر ہوا تو محبتوں کا پتہ چلے گا
نصیب اس کا ثمر ہوا تو محبتوں کا پتہ چلے گا
ابھی تو پھرتے ہو دوستوں میں، عزیز کوئی جدا نہیں ہے
کوئی ادھرِ سے اُدھر ہوا تو محبتوں کا پتہ چلے گا
یہ خوش نصیبی ہے شہر بھر میں تمھارا دشمن نہیں ہے کوئی
کبھی کسی کا جو ڈر ہوا تو محبتوں کا پتہ چلے گا
یہ فاصلہ سا ابھی تلک جو ہمارے دونوں کے درمیاں ہے
یہ فاصلہ مختصر ہوا تو محبتوں کا پتہ چلے گا
ابھی محبت نہیں ہوئی تو کچھ اس لیے مسکرا رہے ہو
کسی کی بانہوں میں گھر ہوا تو محبتوں کا پتہ چلے گا
محبتوں میں تو پتھروں کو بھی موم ہوتے سنا ہے لیکن
تمھارے دل پہ اثر ہوا تو محبتوں کا پتہ چلے گا
وہ جس کی خاطر زمانے بھر کو بنا رہے ہو تم اپنا دشمن
وہی نہ اپنا اگر ہوا تو محبتوں کا پتہ چلے گا
بدل بدل کے ابھی تو چہرے معیار اپنا بنا رہے ہو
کوئی نہ حد نظر ہوا تو محبتوں کا پتہ چلے گا
یہ کیا بچھڑنا کہ شام ہوتے ہی اپنے پیاروں میں لوٹ آنا
کبھی جو لمبا سفر ہوا تو محبتوں کا پتہ چلے گا

Comments
Post a Comment