Ishq Sare Hawas Cheen Gaya Darya Bakhsha Tou Piyas Cheen Gaya
عشق سارے حواس چھین گیا
دریا بخشا تو پیاس چھین گیا
Ishq Sare Hawas Cheen Gaya
Darya Bakhsha Tou Piyas Cheen Gaya
اس قدر کڑوا شخص تھا کہ مری
زندگی سے مٹھاس چھین گیا
جتنے اچھے تھے رنگ چہرے پر
ایک چہرہ شناس چھین گیا
اتنی عریاں نہ زندگی تھی کبھی
وقت اس کا لباس چھین گیا
تتلیاں بین کرتی پھرتی ہیں
کون پھولوں کی باس چھین گیا
تجھ کو سرسبز کر دیا ہو گا
عشق میرا تو ماس چھین گیا
کومل جوئیہ
Komal Joya

Comments
Post a Comment