Khud Ko Khush Daikha Hai , Hairan Bhi Daikha Hoa Hai Main Ne Is Umar Mein Nuqsan Bhi Daikha Hoa Hai
خود کو خوش دیکھا ہے، حیران بھی دیکھا ہوا ہے
میں نے اِس عمر میں نقصان بھی دیکھا ہوا ہے
Khud Ko Khush Daikha Hai , Hairan Bhi Daikha Hoa Hai
Main Ne Is Umar Mein Nuqsan Bhi Daikha Hoa Hai
قہقہے مارتے دیکھا ہے جسے گھر میں کبھی
اُس کو پردیس میں ویران بھی دیکھا ہوا ہے
میں نے دیکھے ہیں تعلق میں منافق چہرے
یہ غنمیت ہے کہ انسان بھی دیکھا ہوا ہے
اُس کے ہوتے ہوئے روئے ہیں، بہت روئے ہیں
خود کو یوں بے سروسامان بھی دیکھا ہوا ہے
فائدہ جتنا محبت سے اٹھایا ہم نے
اُتنا اِس کھیل میں نقصان بھی دیکھا ہوا ہے
ناز کرتے ہوئے دیکھا ہے محبت میں جسے
ہم نے اُس دل کو پشیمان بھی دیکھا ہوا ہے
میں نے دیکھی ہے اُن آنکھوں میں محبت ماہ نور
اور خوش رہنے کا امکان بھی دیکھا ہوا ہے

Comments
Post a Comment