Khuwahish Wasal Ke Hisar Mein Thi Zindagi Tere Intezar Mein Thi
خواہش وصل کے حصار میں تھی
زندگی تیرے انتظار میں تھی
Khuwahish Wasal Ke Hisar Mein Thi
Zindagi Tere Intezar Mein Thi
اب اتر آئی ہے حیات میں بھی
جو کسک دل کے کاروبار میں تھی
اس کی چاہت کا فیض ہے ورنہ
میں کہاں کب کسی شمار میں تھی
گل کھلے تھے مگر نہیں تھا وہ
یہ کمی اس دفعہ بہار میں تھی
لب کشائی میں تین بول کہے
کب کہانی پھر اختیار میں تھی
کچھ وہ کم گو تھا بات کہنے میں
کچھ کمی میرے اعتبار میں تھی
ثوبیہ جی کمال کھیلی ہو
جیت پوشیدہ اب کے ہار میں تھی
ثوبیہ خان نیازی
Sobia Khan Niazi

Comments
Post a Comment