Kis Qadar Tang Hein Halat Nahi Dekhyga Jis Ne Aana Ho Woh Barsat Nahi Dekhy Ga
کس قدر تنگ ہیں حالات، نہیں دیکھے گا
جس نے آنا ہو، وہ برسات نہیں دیکھے گا
Kis Qadar Tang Hein Halat Nahi Dekhyga
Jis Ne Aana Ho Woh Barsat Nahi Dekhy Ga
یہ لکیریں تو بچھڑنے کا بہانہ ہیں فقط
جو نبھائے گا، کبھی ہاتھ نہیں دیکھے گا
میں بھی قائل تھی، محبت میں سبھی جائز ہے
وہ بھی کہتا تھا کہ خطرات نہیں دیکھے گا
جس کو محنت کا صلہ آپ کی صورت میں ملے
کب ہوا دن یا ڈھلی رات نہیں دیکھے گا
جو بھی صحرا میں ترے ساتھ چلا ہو دو پل
جتنے سرسبز ہوں باغات نہیں دیکھے گا

Comments
Post a Comment