Koi Itna Mujhe Dilgeer Nahi Kar Sakta Tu Ne Jo Kam Kia , Teer Nahi Kar Sakta
کوئی اتنا مجھے دلگیر نہیں کر سکتا
تُو نے جو کام کِیا، تیر نہیں کر سکتا
Koi Itna Mujhe Dilgeer Nahi Kar Sakta
Tu Ne Jo Kam Kia , Teer Nahi Kar Sakta
ایک مدت سے مرے دل پہ اجارہ ہے مرا
کوئی اس شہر کو تسخیر نہیں کر سکتا
مجھ کو معلوم ہے، اُس کو ہے محبت مجھ سے
وہ کبھی آنے میں تاخیر نہیں کر سکتا
ریت ہی ریت ہے پھیلی ہوئی چاروں جانب
کوئی کچھ بھی یہاں تعمیر نہیں کر سکتا
کام جو کرکے دکھایا ہے سخن میں تُو نے
وہ کوئی میر تقی میرؔ نہیں کر سکتا
تیز رفتار ہوئی جاتی ہے دنیا اتنی
گفتگو پیڑ سے رہگیر نہیں کر سکتا
ایک دریا ہوں، مجھے ناز ہے خود پر آثم
یہ سمندر مری تحقیر نہیں کر سکتا
رمزی آثم
Ramzi Aasim

Comments
Post a Comment