Meri Zindagi Hai Zalim Tere Gham Se Aashkara Tera Gham Hai Dar Haqeeqat Mujhe Zindagi Se Piyara
میری زندگی ہے ظالم تیرے غم سے آشکارا
تیرا غم ہے درحقیقت مجھے زندگی سے پیارا
Meri Zindagi Hai Zalim Tere Gham Se Aashkara
Tera Gham Hai Dar Haqeeqat Mujhe Zindagi Se Piyara
وہ اگر برا نہ مانیں تو جہان رنگ و بو میں
میں سکون دل کی خاطر کوئی ڈھونڈ لوں سہارا
مجھے تجھ سے خاص نسبت، میں رہین موج طوفاں
جنہیں زندگی تھی پیاری انہیں مل گیا کنارہ
مجھے آ گیا یقیں سا کہ یہی ہے میری منزل
سر راہ جب کسی نے مجھے دفعتا پکارا
یہ خنک خنک ہوائیں یہ جھکی جھکی گھٹائیں
وہ نظر بھی کیا نظر ہے جو سمجھ نہ لے اشارہ
میں بتاؤں فرق ناصح جو ہے مجھ میں اور تجھ میں
میری زندگی تلاطم تیری زندگی کنارہ
مجھے فخر ہے اسی پر، یہ کرم بھی ہے مجھی پر
تیری کم نگاہیاں بھی مجھے کیوں نہ ہوں گوارا
مجھے گفتگو سے بڑھ کر غم اذن گفتگو ہے
وہی بات پوچھتے ہیں جو نہ کہہ سکوں دوبارہ
کوئی اے شکیل پوچھے، یہ جنوں نہیں تو کیا ہے
کہ اسی کے ہو گئے ہم جو نہ ہو سکا ہمارا
شکیل بدایونی
Shakeel Badayuni

Comments
Post a Comment