Mujh Se Bichad Ke Woh Bhi Pareshan Tha Buhat Jiski Nazar Mein Kam Yeh Aasan Tha Buhat
مجھ سے بچھڑ کے وہ بھی پریشان تھا بہت
جس کی نظر میں کام یہ آسان تھا بہت
Mujh Se Bichad Ke Woh Bhi Pareshan Tha Buhat
Jiski Nazar Mein Kam Yeh Aasan Tha Buhat
سوچا تو بے خلوُص تھیں سب اس کی قربتیں
جس کے بغیر گھر میرا ویران تھا بہت
بے خواب سُرخ آنکھوں نے سب کچھ بتا دیا
کل رات دل میں درد کا طوفان تھا بہت
وحشت میں کیوں کسی کے گریباں کو دیکھتا
میرے لیے تو اپنا گریبان تھا بہت
اب تو کوئی تمنا ہی باقیؔ نہیں رہی
یہ شہرِ آرزو کبھی گنجان تھا بہت

Comments
Post a Comment