Mujhe Mila Tha Jo Barson Ki Justjo Kar Ke Main Dil Girafta Hoi Us Se Guftgo Kar Ke
مجھے ملا تھا جو برسوں کی جستجو کر کے
میں دل گرفتہ ہوئی اس سے گفتگو کر کے
Mujhe Mila Tha Jo Barson Ki Justjo Kar Ke
Main Dil Girafta Hoi Us Se Guftgo Kar Ke
ہجوم شہر میں تنہا سی سوگوار آنکھیں
انہی کی دید کو نکلے ہیں ہم وضو کر کے
یہ خواہشیں ہی تسلی بھی، دکھ بھی دیتی ہیں
یہ ہم نے دیکھ لیا تیری آرزو کر کے
سفر کی دھول کو ہے مجھ سے انسیت ایسی
سفر پکارتا ہے مجھ کو آرزو کر کے
اب اس کے طرزِ تکلم پہ محو حیرت ہوں
پکارتا تھا جو اک شخص مجھ کو تو کر کے
افشاں سحر
Afshan Sahar

Comments
Post a Comment