Pursa Hai , Tasally Hai , Dilasa Hai Keh Tum Ho Har Gham Ka Yahi Aik Madawa Hai Keh Tum Ho
پرسہ ہے، تسلی ہے، دلاسہ ہے کہ تم ہو
ہرغم کا یہی ایک مداوا ہے کہ تم ہو
Pursa Hai , Tasally Hai , Dilasa Hai Keh Tum Ho
Har Gham Ka Yahi Aik Madawa Hai Keh Tum Ho
اب مجھ کو کوئی فکر زمانے کی نہیں ہے
بیٹھے ہوئے پہلو میں یہ اچھا ہے کہ تم ہو
اک دشت کو جاتی ہوئی سنسان سڑک میں
گلزار کو جاتا ہوا رستہ ہے کہ تم ہو
میں سامنے بیٹھا جو تمھیں دیکھ رہا ہوں
یہ میرا تخیل ہے کہ سپنا ہے کہ تم ہو
میں کیوں نہ کروں ناز کہ تم پاس ہو میرے
اس بات پہ تو فخر بھی بنتا ہے کہ تم ہو
کل چھوڑ گئے تم تو مرا کیا ہی بنے گا
اس وقت تو میں نے بھی یہ مانا ہے کہ تم ہو
اک بار جو دیکھے تمھیں، وہ دیکھتا جائے
اک نورِ مجسم کا سراپا ہے کہ تم کو
دیکھو تو بدن لمس سے جلنے لگا میرا
دہکی سی کسی آگ کا شعلہ ہے کہ تم ہو
یہ ہونٹ، یہ رخسار، یہ شبنم سا پسینہ
کھِلتا ہوا کوئی گلِ تازہ ہے کہ تم ہو
دن بھر کی تھکاوٹ کے اترنے کی سہولت
آنکھوں پہ مری نیند کا پہرا ہے کہ تم ہو
خوشبو یہ مرے گھر میں چلی آئی کہاں سے
آنگن میں کوئی پھول سا مہکا ہے کہ تم ہو
میں ہجر کی گزری ہوئی راتوں کی کسک ہوں
اک وصل کا ٹھہرا ہوا لمحہ ہے کہ تم ہو
ویسے تو سبب زیست کا کوئی نہیں باقی
جینے کا مگر ایک بہانہ ہے کہ تم ہو
میں شام کو ڈوبے ہوئے سورج کی طرح ہوں
وہ دور کوئی چاند چمکتا ہے کہ تم ہو
تنہائی میں لگتا ہے مرا کوئی نہیں ہے
دل میرا اگرچہ یہی کہتا ہے کہ تم ہو
ویسے نہیں فیصل کوئی اب میرا جہاں میں
بس ایک سہارا ہے تو اتنا ہے کہ تم ہو

Comments
Post a Comment