Shahzaday Karo Yaqeen Mera Jee Nahi Lag Raha Kahein Mera
شاہزادے کرو یقیں میرا
جی نہیں لگ رہا کہیں میرا
Shahzaday Karo Yaqeen Mera
Jee Nahi Lag Raha Kahein Mera
تیرے دل کے نگار خانے میں
نقش باقی ہے کیا کہیں میرا
لوگ جتنا مرے خلاف ہوۓ
خود پہ بڑھتا گیا یقیں میرا
اس کو کیسے قضا کیا جائے
وہ تو ہے فرض اولیں میرا
غم کا آسیب ڈھونڈھتا ہے مجھے
جیسے میں گھر ہوں، وہ مکیں میرا
زخم میرے بہت انوکھے ہیں
یونہی لہجہ نہیں حسیں میرا
بلقیس خان
Balqees Khan

Comments
Post a Comment