Tark Muhabbat Apni Khata Ho , Aisa Bhi Ho Sakta Hai Woh Ab Bhi Paband Wafa Ho , Aisa Bhi Ho Sakta Hai
ترک محبت اپنی خطا ہو ، ایسا بھی ہو سکتا ہے
وہ اب بھی پابند وفا ہو، ایسا بھی ہو سکتا ہے
Tark Muhabbat Apni Khata Ho , Aisa Bhi Ho Sakta Hai
Woh Ab Bhi Paband Wafa Ho , Aisa Bhi Ho Sakta Hai
دروازے پر آہٹ سن کر اس کی طرف کیوں دھیان گیا
آنے والی صرف ہوا ہو ایسا بھی ہو سکتا ہے
حال پریشاں سن کر میرا آنکھ میں اس کی آنسو ہیں
میں نے اس سے جھوٹ کہا ہو، ایسا بھی ہو سکتا ہے
عرض طلب پر اس کی چپ سے ظاہر ہے انکار مگر
شاید وہ کچھ سوچ رہا ہو ایسا بھی ہو سکتا ہے
حد نظر تک صرف دھواں تھا، برق پہ کیوں الزام رکھیں
آتش گل سے باغ جلا ہو ایسا بھی ہو سکتا ہے
خون بہانا اس کا شیوہ ہے تو سہی منظورؔ مگر
ہاتھ پہ اس کے رنگ حنا ہو، ایسا بھی ہو سکتا ہے
ملک زادہ منظورؔ
Malak Zada Manzoor
.jpg)
Comments
Post a Comment