Teri Qurbat Nahi Mili Hum Ko Badshahat Nahi Mili Hum Ko
تیری قُربت نہیں ملی ہم کو
بادشاہت نہیں ملی ہم کو
Teri Qurbat Nahi Mili Hum Ko
Badshahat Nahi Mili Hum Ko
خود کو بازار مصر لے آئے
اپنی قیمت نہیں ملی ہم کو
سجدۂ سہو عشق میں کرتے
یہ رعایت نہیں ملی ہم کو
اپنے بارے میں سوچتے ہم کیا
تم سے فرصت نہیں ملی ہم کو
ہر گلی کا طواف ہم نے کیا
تیری صُورت نہیں ملی ہم کو
جس محبت کے خواب دیکھے تھے
وہ محبت نہیں ملی ہم کو
تھی خوشی مُنتظر ضیاء لیکن
غم سے فرصت نہیں ملی ہم کو
ضیاء شاہد
Zia Shahid

Comments
Post a Comment