Us Ne Har Cheez Yahan Hasb e Zarorat Di Hai Dagh Is Dil Ko , Usay Chand See Sorat Di Hai
اُس نے ہر چیز یہاں حسب ِ ضرورت دی ہے
داغ اِس دل کو، اُسے چاند سی صورت دی ہے
Us Ne Har Cheez Yahan Hasb e Zarorat Di Hai
Dagh Is Dil Ko , Usay Chand See Sorat Di Hai
آج سوچا ہے تو آنسو نہیں تھمتے اپنے
کِس نے اِس دل کو کہاں، کتنی اذیت دی ہے
کون سے شہر میں اُترا ہے مِری رات کا چاند
کِس کے دروازے کو اُس ہاتھ نے عزت دی ہے
کیوں نہ دو چار گھڑی کوئے ملامت میں رہیں
گردش ِ وقت نے گر تھوڑی سی مُہلت دی ہے
آج پِھر اُس کی نگاہوں کا اشارہ پا کر
ہم نے اِس دِل کو دھڑکنے کی اجازت دی ہے
شاہین مفتی
Shaheen Mufty

Comments
Post a Comment