Usko Dhadkan Ki Har Ik Ly Mein Sunayi Daity Woh Agar Mangta Hum Se Toh Khudai Daity
اس کو دھڑکن کی ہر اک لے میں سنائی دیتے
وہ اگر مانگتا ہم سے تو خدائی دیتے
Usko Dhadkan Ki Har Ik Ly Mein Sunayi Daity
Woh Agar Mangta Hum Se Toh Khudai Daity
چل دیا ہاتھ چھڑا کر وہ کبھی کا ہم سے
اور کچھ پل جو ٹھہرتا تو دہائی دیتے
کس قدر شور مچا رکھا ہے سناٹوں نے
کیسے دلدار سخن تجھ کو سنائی دیتے
وقت نے قید کیا درد کے زندانوں میں
تم جو آتے تو ہمیں ان سے رہائی دیتے
ہوچکی ترک محبت تو یہ رونا کیسا
کیوں نہ آغاز محبت میں جدائی دیتے
شعر کہنے کا سلیقہ بھی تو آیا نہ مجھے
پھر مرے زخم بھلا کیسے دکھائی دیتے
راحیلہ اشرف
Raheela Ashraf

Comments
Post a Comment