Wasal Ka Jab Sawal Rakhiye Ga Taab e Husan o Jamal Rakhiye Ga
وصل کا جب سوال رکھیے گا
تابِ حسن و جمال رکھیے گا
Wasal Ka Jab Sawal Rakhiye Ga
Taab e Husan o Jamal Rakhiye Ga
سارے پھیکے ہیں رنگ خوشیوں کے
ساتھ رنگِ ملال رکھیے گا
اب نہ آئے گا اس فریب میں دل
لاکھ خواہش کا جال رکھیے گا
میں بہت دیرپا اذیت ہوں
بھولنے کا کمال رکھیے گا
ہجر کیا بار بار ملتا ہے ؟
چار دن تو سنبھال رکھیے گا
ہر نئے دن کا اختتام ہے رات
سامنے بس زوال رکھیے گا
میں نہیں پاس ورنہ میں رکھتی
آپ اپنا خیال رکھیے گا
کومل جوئیہ
Komal Joya

Comments
Post a Comment