Wehshatein Barhty Gaein Hijar Ke Aazar Ke Sath Ab Tou Hum Baat Bhi Karte Nahin Ghakhuwar Ke Saath
وحشتیں بڑھتی گئیں ہجر کے آزار کے ساتھ
اب تو ہم بات بھی کرتے نہیں غمخوار کے ساتھ
Wehshatein Barhty Gaein Hijar Ke Aazar Ke Sath
Ab Tou Hum Baat Bhi Karte Nahin Ghakhuwar Ke Saath
ہم نے اک عمر بسر کی ہے غم یار کے ساتھ
میرؔ دو دن نہ جیے ہجر کے آزار کے ساتھ
اب تو ہم گھر سے نکلتے ہیں تو رکھ دیتے ہیں
طاق پر عزت سادات بھی دستار کے ساتھ
ایک تو خواب لیے پھرتے ہو گلیوں گلیوں
اس پہ تکرار بھی کرتے ہو خریدار کے ساتھ
ہم کو اس شہر میں تعمیر کا سودا ہے جہاں
لوگ معمار کو چن دیتے ہیں دیوار کے ساتھ
جو شرف ہم کو ملا کوچۂ جاناں سے فرازؔ
سوئے مقتل بھی گئے ہیں اسی پندار کے ساتھ
احمد فرازؔ
Ahmad Faraz

Comments
Post a Comment