Yun Bhi Khizan Ka Roop Suhana Laga Mujhe Har Phool Fasal Gul Mein Purana Laga Mujhe
یوں بھی خزاں کا رُوپ سہانا لگا مجھے
ہر پھول فصلِ گُل میں پرانا لگا مجھے
Yun Bhi Khizan Ka Roop Suhana Laga Mujhe
Har Phool Fasal Gul Mein Purana Laga Mujhe
میں کیا کسی پہ سنگ اُٹھانے کی سوچتا
اپنا ہی جسم آئینہ خانہ لگا مجھے
اے دوست، جھوٹ عام تھا دنیا میں اس قدر
تُو نے بھی سچ کہا تو فسانہ لگا مجھے
اب اس کو کھو رہا ہوں بڑے اشتیاق سے
وہ جس کو ڈھونڈنے میں زمانہ لگا مجھے
محسن نقوی
Mohsin Naqvi

Comments
Post a Comment