Yun Bhi Pindar e Muhabbat Ko Sanbhala Main Ne Aik Sikkay Ko Kai Bar Uchala Main Ne
یوں بھی پندارِ محبت کو سنبھالا میں نے
ایک سکے کو کئی بار اچھالا میں نے
Yun Bhi Pindar e Muhabbat Ko Sanbhala Main Ne
Aik Sikkay Ko Kai Bar Uchala Main Ne
شام غم لمبی تھی اور ساتھ میں تنہائی تھی
پی لیا ہجر کا کچھ یوں بھی پیالہ میں نے
اس کے بدلے ہوئے لہجے نے مجھے توڑ دیا
اپنے منہ کا بھی دیا جس کو نوالہ میں نے
رو پڑی پیاس بھی بوندوں کا تصور کرکے
لے کے مٹھی میں جو پانی کو اچھالا میں نے
پوچھ بیٹھا تھا وہ مجھ سے کہ محبت کیا ہے
اپنی آنکھوں کا دیا اس کو حوالہ میں نے
رمل اقبال
Ramal Iqbal

Comments
Post a Comment