Zulam Kar Dy Na Tera Mael e Faryad Mujhe Is Qadar Bhi Na Sata Ae Sitam Ejad Mujhe
ظلم کر دے نہ ترا مائلِ فریاد مجھے
اس قدر بھی نہ ستا اے ستم ایجاد مجھے
Zulam Kar Dy Na Tera Mael e Faryad Mujhe
Is Qadar Bhi Na Sata Ae Sitam Ejad Mujhe
رات پڑتی ہے تو آتا ہے کوئی یاد مجھے
تُو نے رکھا نہ کہیں کا دلِ ناشاد مجھے
جو خوشی آپ کی، وہ میری خوشی، بسم اللہ
آپ کرتے ہیں تو کر دیجیے برباد مجھے
پوچھتے کیا ہو مرا حالِ پریشاں مجھ سے
ایسا کھویا ہوں کہ کچھ بھی نہ رہا یاد مجھے
رکھ سکے کون بھلا ہاتھ کسی کے منہ پر
لوگ کہتے ہیں ترا کشتۂ بیداد مجھے
میں قفس ہی سے گلستاں کا نظارہ کر لوں
اتنی رخصت نہیں دیتا مرا صیاد مجھے
کس لیے قتل کا الزام کسی اور کو دوں
شوق خود لے کے گیا جانبِ جلاد مجھے
بھول جاؤں میں زمانے کو تری چاہت میں
یاد تیری رہے اللہ کرے یاد مجھے
مال و زر چیز ہی کیا، جاں بھی فدا کر دیتا
کیا کہوں، کیوں نہ کیا آپ نے ارشاد مجھے
لینے دیجیے ابھی اس دل کو اسیری کے مزے
ابھی کیجیے نہ خمِ زلف سے آزاد مجھے
اُس کی یادوں سے نصیرؔ آج بھی دل ہے آباد
بھول کر بھی نہ کیا جس نے کبھی یاد مجھے
پیر سید نصیرالدین نصیرؔ شاہ گیلانی
Peer Sayed Naseer u deen Naseer Shah Gailany

Comments
Post a Comment