Latest Post
Loading...

Haaye Logon Ki Karam Farmaaiyaan Tuhmatain Badnaamiyaan Ruswaaiyaan

ہائے لوگوں کی کرم فرمائیاں
تہمتیں  بدنامیاں رسوائیاں

زندگی شاید اسی کا نام ہے
دوریاں  مجبوریاں تنہائیاں

کیا زمانے میں یوں ہی کٹتی ہے رات
کروٹیں بے تابیاں  انگڑائیاں

کیا یہی ہوتی ہے شام انتظار
آہٹیں  گھبراہٹیں پرچھائیاں

میرے دل کی دھڑکنوں میں رہ گئں
چوڑیاں موسیقیاں  شہنائیاں

دیدہ و دانستہ ان کے سامنے
لغزشیں ناکامیاں  پسپائیاں

رہ گئیں اک طفل مکتب کے حضور
حکمتیں  آگاہیاں دانائیاں

زخم دل کے پھر ہرے کرنے لگیں
بدلیاں  برکھا رتیں پروائیاں

کیف، پیدا کر سمندر کی طرح
وسعتیں خاموشیاں  گہرائیاں

کیف بھوپالی

0 comments:

Post a Comment

 
Toggle Footer