Latest Post
Loading...

Wo Jarre Ka Maosam


شاعر جان نثار اختر
بک نذر ۓ بتاں ماخوذ کلیات جان نثار اختر صفحہ 104 110
انتخاب اجڑا دل
وہ جاڑے کا موسم وہ سردی کا جوبن
لحافوں میں کم سن دلوں کی وہ ڈھڑکن
چھڑانا وہ ہاتھوں سے ہر بار دامن
وہ پلو کی چبھتی ہوئی کامدانی
بہت یاد آتی ہے باتیں پرانی
نہ چھوٹا کبھی ہم سے ساون کا میلا
بہا لے گیا دل کو ہر ایک ریلا
بہت رنگ دیکھے بہت کھیل کھیلا
انگرکھے پہ باندھے کبھی زرد سیلا
کبھی سرخ ٹوپی سیہ شیروانی
بہت یاد آتی ہے باتیں پرانی
جھلانا حسینوں کو باغوں میں جھولے
انہیں شوق کوئی بہانے سے چھولے
پھسلتے وہ شیشم کی پیڑی پہ کولے
ہوا میں وہ آنچل کے اڑتے بگولے
بسنتی گلابی ہرے زعفرانی
بہت یاد آتی ہے باتیں پرانی
اچھوتے وہ سینے پنڈے کنوارے
چمکتے وہ معصوم آنکھوں میں تارے
سمجھتی نہ تھی کل جو اپنے اشارے
نظر جو ملاتی نہ تھی ڈر کے مارے
وہی ہم سے کرنے لگی چھیڑ خانی
بہت یاد آتی ہے باتیں پرانی
کنہیا بنے گھومتے ہولیوں میں
لیۓ رنگ پھرتے تھے ہم جھولیوں میں
سدا جا ملے گل بدن ٹولیوں میں
اترتی پھواریں حسیں چولیوں میں
دھنک بن گئی ساڑیاں جو تھی دھانی
وہ آرستہ محفلیں مۓ کشی کی
ابھرتی وہ جاموں سے لو روشنی کی
وہ محسوس ہوتی کھنک چاندنی کی
گزرتی ہوئی وہ حدیں بے خودی کی
زمیں سے افلاک تک حکمرانی
ہر اک جام میں وہ برابر کی ڈھلنا
وہ شیشے کا گرداب بن کر مچلنا
وہ گر گر کے خود ساقیہ کا سنبھلنا
کمر کو وہ اس طرح بل دے کے چلنا
کہ کستی چلی جاۓ جیسے کمانی
بہت یاد آتی ہے باتیں پرانی
سجی خلوتوں میں کبھی شغل مینا
وہ محبوبہء خوش ادا خوش قرینہ
حریری قبا میں جھلکتا وہ سینہ
کبھی اس کے ہاتھوں سے ضد کر کے پینا
کبھی اپنے ہاتھوں سے اس کو پلانی
بہت یاد آتی ہے باتیں پرانی
یہ آوارہ گردی ہماری چھڑادے
نمازیں سکھا دے وظیفے سکھا دے
شریعت کے رستے پہ ہم کو چلادے
ہماری بشیرن سے شادی رچا دے
بہت چاہتی تھی بشیرن کی نانی
بہت یاد آتی ہے باتیں پرانی
نہ وہ دل نہ وہ دل کی نادانیاں ہیں
نہ وہ ہم نہ وہ بزم سامانیاں ہیں
نہ وہ دوستوں کی گل افشانیاں ہیں
نہ وہ فکر رنگیں کی جولانیاں ہیں
گئی شعر گوئی رہی نوحہ خوانی
بہت یاد آتی ہے باتیں پرانی

0 comments:

Post a Comment

 
Toggle Footer