Latest Post
Loading...

Do Ankhon Ki Tamheed Lekhtey Hua


دو آنکهوں کی
تمہید لکهتے ہوئے
انگلیاں سب میری
سرسراتی ہوئیں

وہ آنکهیں وہ
کیفی جزائر نشاں
منزلوں پہ مسافر
لے جاتی ہوئیں

ریت دهنتی ہوئیں
لو جگاتی ہوئیں
ہر ستم گر کا
پیشہ چهڑاتی ہوئیں

بازوئے ابرواں
کسمساتی ہوئیں
جفت تیروں کی
تمثیل گاتی ہوئیں

میرے خوابیدہ جوہر
نڈر سوچ میں
اپنے ڈوروں کی
بابت اٹهاتی ہوئیں

اپنی پلکوں پہ
نظر_اسد کهینچ کے
ان کی تلمیزی
تاب آزماتی ہوئیں

اپنے خوابوں کا
عنوان لالچ کیے
میرا پیکر قلم
سے ملاتی ہوئیں

اپنا ایک ایک
اشارہ سلامت کیے
چارسو نقطہء
مرکز بناتی ہوئیں

با انداز_فریق
عشق کے سامنے
دو رضاکار
ضامن بناتی ہوئیں

رزب خانہ خرابی
پہ کهائے دُہر
روز شاہوں کا
مجمع لگاتی ہوئیں
(رزب تبریز)

0 comments:

Post a Comment

 
Toggle Footer