Latest Post
Loading...

Bichadne Walon Ko Kia Kia Gumaan Rehta Hai


بچھڑنے والوں کو کیا کیا گمان رہتا ہے
کسی کا نام، کسی کا نشان رہتا ہے؟
مجھے تلاش نہ کر اب ہجومِ یاراں میں
اُبھرتے شہر میں کچا مکان رہتا ہے
نشاطِ رفتہ کی آنکھوں میں روشنی ہے ابھی
جہاز ڈوب گیا، بادبان رہتا ہے
ہزار دُکھ ہیں مگر رام کس سے بات کریں
ہمارا کون یہاں ہم زبان رہتا ہے

0 comments:

Post a Comment

 
Toggle Footer