Latest Post
Loading...

Jab Keh Ke Wo Dilbar Gaya Tere Liye Main Mar Gaya


جب کہہ کے وہ دلبر گیا ترے لئیے میں مر گیا
روتے ہیں اسکو رات بھر، میں اور میری آوارگی
اب غم اٹھائیں کس کے لئیے، آنسو بہائیں کس کے لئیے
یہ دل جلائیں کس کے لئیے، یوں جان گنوائیں کس کے لئیے
پیشہ نہ ہو جسکا ستم، ڈھونڈیں گے اب ایسا صنم
ہوں گے کہیں تو کارگر، میں اور میری آوارگی
آثار ہیں سب کھوٹ کے، امکان ہیں سب چوٹ کے
گھر بند ہیں سب گوٹ کے، اب ختم ہیں سب ٹوٹکے
قسمت کا سب یہ پھیر ہے، اندھیر ہے اندھیر ہے
ایسے ہوئے ہیں بےآثار، میں اور میری آوارگی
جب ہمدم و ہمراز تھا تب اور ہی انداز تھا،
اب سوز ہے تب سازتھا، اب شرم ہے تب ناز تھا
اب مجھ سے ہو تو ہو بھی کیا، ساتھ ہو وہ تو وہ بھی کیا
اک بے ہنر، اک بےثمر، میں اور میری آوارگی
  
جاوید اختر 


0 comments:

Post a Comment

 
Toggle Footer