Umar Daraz Mang Kar Laye Thay Chaar Din,Do Aarzoo Me Kat Gaye,Do Intezaar Me
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
ہم نے متعدد مرتبہ یہ مشہور و معروف شعر اپنی زندگی کے مختلف پہروں میں سن اور پڑھ رکھا ہوگا کہ
عمرِ دراز مانگ کے لائے تھے چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے، دو انتظار میں
ہم میں سے اکثریت اسے بہادر شاہ ظفر سے منسوب کرتی ہے اور اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کی نویں جماعت کی اردو کتاب کے نصاب میں شامل بہادر شاہ ظفر کی غزل میں یہ شعر موجود ہے۔ لیکن جن حضرات نے سیماب اکبر آبادی کو پڑھا انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ شعر سیماب کا ہے۔۔۔
مزید تحقیق کی گئی تو یہ سامنے آیا کہ یہ غزل سیماب نے علی گڑھ کے ایک مشاعرے میں پڑھی اور یہ شعر بھی پڑھا لیکن تھوڑی تبدیلی کے ساتھ اور وہ کچھ یوں تھا کہ
عمرِ دراز مانگ کے لائی تھی چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں
اس میں "لائے" کی بجائے "لائی" کہا گیا، اسی بات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ان شعراء کے مطبوعہ کلام کو دیکھا گیا تو دونوں کے کلام میں یہ شعر موجود تھا۔
کلام
لگتا نہیں ہے جی مرا اُجڑے دیار میں
کس کی بنی ہے عالمِ ناپائدار میں
بُلبُل کو باغباں سے نہ صَیَّاد سے گلہ
قسمت میں قید لکّھی تھی فصلِ بہار میں
کہہ دو اِن حسرتوں سے کہیں اور جا بسیں
اتنی جگہ کہاں ہے دلِ داغدار میں
ایک شاخ گل پہ بیٹھ کے بلبل ہے شادمان
کانٹے بچھا دیے ہیں دل لالہ زار میں
عُمْرِ دراز مانگ کے لائے تھے چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں
دِن زندگی کے ختم ہوئے شام ہو گئی
پھیلا کے پاؤں سوئیں گے کُنجِ مزار میں
کتنا ہے بدنصیب ظفر دفن کے لیے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں
بہادر شاہ ظفر
دیوانِ ظفر صفحہ نمبر 168
******************************
شاید جگہ نصیب ہو اُس گُل کے ہار میں
میں پُھول بن کے آؤں گا، اب کی بہار میں
خَلوَت خیالِ یار سے ہے انتظارمیں
آئیں فرشتے لے کے اِجازت مزار میں
ہم کو تو جاگنا ہے ترے انتظار میں
آئی ہو جس کو نیند وہ سوئے مزار میں
اے درد! دل کوچھیڑکے، پھرباربارچھیڑ
ہے چھیڑ کا مزہ خَلِشِ باربارمیں
ڈرتا ہوں، یہ تڑپ کے لحد کو اُلٹ نہ دے
ہاتھوں سے دِل دبائے ہوئے ہُوں مزارمیں
تم نے تو ہاتھ جوروسِتم سےاُٹھالیا
اب کیا مزہ رہا سِتَمِ روزگار میں
اے پردہ دار، اب تونکل آ، کہ حشْرہے
دنیا کھڑی ہوئی ہے ترے انتظار میں
عمرِ دراز، مانگ کے لائی تھی چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں
سیماب پھول اُگیں لحدِعندلیب سے
اتنی تو تازگی ہو ہوائے بہار میں
مجموعہ کلام
سیماب اکبر آبادی کلیم عجم صفحہ نمبر 372

Comments
Post a Comment