Chandni , Jheel Na Shabnam Na Kanwal Mein Hoga Ab Tera Aks Faqat Apni Ghazal Mein Hoga
چاندنی، جھیل نہ شبنم نہ کنول میں ہو گا
اب تِرا عکس فقط اپنی غزل میں ہو گا
Chandni , Jheel Na Shabnam Na Kanwal Mein Hoga
Ab Tera Aks Faqat Apni Ghazal Mein Hoga
جس سے منسوب ہے تقدیرِ دو عالم کا مزاج
وہ ستارہ بھی تِری زلف کے بَل میں ہو گا
اور اک سانس کو جینے کی تمنا کر لیں
ایک لمحہ تو ابھی دستِ اجل میں ہو گا
راکھ ماضی کی کریدو، نہ پلٹ کر دیکھو
آج کا دن بھی ہُوا گُم تو وہ کل میں ہو گا
کیوں کسی موڑ پہ رک رک کے صدا دیں اس کو
وہ تو مصروف مسافت کے عمل میں ہو گا
ہجر والو! وہ عدالت بھی قیامت ہو گی
فیصلہ ایک صدی کا جہاں پَل میں ہو گا

Comments
Post a Comment