Hamaishgi Ki Yeh Deewar Dil Peh Bhary Hai Keh Ab Khabar Hai Mujhe Lot Kar Nahi Jana
ہمیشگی کی یہ دیوار دل پہ بھاری ہے
کہ اب خبر ہے مجھے لوٹ کر نہیں جانا
Hamaishgi Ki Yeh Deewar Dil Peh Bhary Hai
Keh Ab Khabar Hai Mujhe Lot Kar Nahi Jana
نہیں ہے راستہ کوئی جو گھر کو لے جائے
کسی بھی راہ میں اب کوئی بھی چراغِ نہیں
اندھیری رات ہے، تاروں کا بھی سراغ نہیں
مجھے خبر ہے کہ اب اجنبی سے رستوں میں
نئے زمانے، نئے خواب ڈھونڈنے ہیں مجھے
لہو لہو ہیں قدم پھر بھی چلتے رہنے کو
دریدہ دامنِ صد چاک جھیلنے ہیں مجھے
ہمیشگی کی یہ دیوار اب اٹل ہے تو پھر
پلٹ کے جانے میں رسوائیوں کا جنگل ہے
وہ خواب اور وہ خیالات جو کہیں بھی نہیں
وہ شبنمی سے تھے لہجے جو جل بجھے ہیں کہیں
تو پھر یہ آخرِ شب کون صدا دیتا ہے؟
بلا رہا ہے مجھے کون نیند ریشم سے ؟
شائستہ مفتی
Shaista Mufty

Comments
Post a Comment