Ho Kar Bhi Juda Mujh Ko Judai Toh Nahi Di Choda Hai Mujhe Usne , Rehai Toh Nahi Di
ہو کر بھی جدا مجھ کو جدائی تو نہیں دی
چھوڑا ہے مجھے اس نے، رہائی تو نہیں دی
Ho Kar Bhi Juda Mujh Ko Judai Toh Nahi Di
Choda Hai Mujhe Usne , Rehai Toh Nahi Di
کیوں شور بپا ہو گیا بستی میں اچانک
اک دل ہی دیا اس کو، خدائی تو نہیں دی
اس نے بھی بھرم توڑ دیا میری وفا کا
میں نے بھی سرِ بزم دہائی تو نہیں دی
جو بات اسے کہہ کے میں لوٹا ہوں وہاں سے
وہ بات مری اس کو سنائی تو نہیں دی
میں نے بھی وضاحت کبھی مانگی نہیں اس سے
اس نے بھی کبھی آ کے صفائی تو نہیں دی
فرقت میں تری دشت نشینی کے علاوہ
مجھ کو بھی کوئی راہ سجھائی تو نہیں دی
بینائی جو گم ہو گئی آنکھوں سے حیات اب
تجھ کو ترے رستے میں دکھائی تو نہیں دی
شفقت حیات شفق
Shafqat Hayat Shafaq

Comments
Post a Comment