Inteha Ka Malal Daikh Chuky Kia Darein Jo Zawal Daikh Chuky
انتہا کا ملال دیکھ چکے
کیا ڈریں جو زوال دیکھ چکے
Inteha Ka Malal Daikh Chuky
Kia Darein Jo Zawal Daikh Chuky
شدتوں کی اشد ضرورت ہے
مدتوں اعتدال دیکھ چکے
حال نادار کا نہیں بدلا
گردش ماہ و سال دیکھ چکے
خوف جاتا رہا ہے دشمن کا
اپنے ہمدم کی چال دیکھ چکے
اب نیا وار سہہ کے دیکھتے ہیں
زخم کا اندمال دیکھ چکے

Comments
Post a Comment