Is Se Pehle Keh Bewafa Ho Jaein Kyun Na Ae Dost Hum Juda Ho Jaein
اس سے پہلے کہ بیوفا ہو جائیں
کیوں نہ اے دوست ہم جدا ہو جائیں
Is Se Pehle Keh Bewafa Ho Jaein
Kyun Na Ae Dost Hum Juda Ho Jaein
تُو بھی ہیرے سے بن گیا پتھر
ہم بھی کل جانے کیا سے کیا ہو جائیں
ہم بھی مجبوریوں کا عذر کریں
اور کہیں اور مبتلا ہو جائیں
تُو کہ یکتا تھا بیشمار ہوا
ہم بھی ٹوٹیں تو جا بجا ہو جائیں
عشق بھی کھیل ہے نصیبوں کا
خاک ہو جائیں، کیمیا ہو جائیں
اب کہ گر تُو ملے تو ہم تجھ سے
ایسے لپٹیں تری قبا ہو جائیں
بندگی ہم نے چھوڑ دی ہے فرازؔ
کیا کریں لوگ جب خدا ہو جائیں
احمد فرازؔ
Ahmad Faraz

Comments
Post a Comment