Jo Mumkinat Ki Manzil Guzar Gai Ho Gi Toh Dil Mein Dard Ki Sa'at Thehar Gai Ho Gi
جو ممکنات کی منزل گزر گئی ہو گی
تو دل میں درد کی ساعت ٹھہر گئی ہو گی
Jo Mumkinat Ki Manzil Guzar Gai Ho Gi
Toh Dil Mein Dard Ki Sa'at Thehar Gai Ho Gi
وجود پیاس کے پیالے میں جل رہا ہو گا
اندھیری رات اجالے سے ڈر گئی ہو گی
قرار آ ہی گیا دل کی بیقراری کو
چڑھی ہوئی تھی جو ندی، اتر گئی ہوگی
ہے عکس موسمِ گل میں تمھاری آہٹ کا
جہاں جہاں تجھے ڈھونڈا نظر گئی ہو گی
یہ کیسا کہر سا چھانے لگا فضاؤں میں
پکارتے ہوئے ہر سو سحر گئی ہو گی
بہت اداس ہیں، آ جاؤ دل دکھانے کو
اکیلی شام بہت بے اثر گئی ہو گی
شائستہ مفتی
Shaista Mufty

Comments
Post a Comment