Khuwab Ke Jazeeron Par Ik Diya Jalana Tha Aur Phir Hawaoun Ko Rasta Batana Tha
خواب کے جزیروں پر اِک دیا جلانا تھا
اور پھر ہواؤں کو راستہ بتـــــــــــانا تھا
Khuwab Ke Jazeeron Par Ik Diya Jalana Tha
Aur Phir Hawaoun Ko Rasta Batana Tha
درد کی فصیلوں تک یہ چراغ ِ جاں لے کر
ہمسفر کے دھوکے میں ہم کو تنہا جانا تھا
اپنے سر کی چادرکو تھام کر مجھے تنہا
سر اُٹھا کے چلنا تھا،ٹھوکریں بھی کھانا تھا
اس نے روتی آنکھوں کو چوم کر قسم دی تھی
اب تو مجھ کو جیون بھر صرف مسکرانا تھا
جس کی سرخ اینٹوں سے ناگ لپٹے رہتے تھے
مجھ کو اُس حویلی میں آشیاں بنانا تھا
کیا خبر تھی برسوں سے جل رہا ہے جو دل میں
اُس چراغ نے آخر میرا گھر جلانا تھا
عشق کی مسافت میں بے ریا محبت کو
ہم نے یاد رکھنا تھا، تم نے بھول جانا تھا
اس کا ساتھ کیا ملتا ہم فقیر لوگوں کو
قسمتوں کی بازی میں ہم کو ہار جانا تھا
جیتنا ہی مشکل تھا اس سفر میں ایماں کہ
اک طرف میں تنہا تھی، اک طرف زمانہ تھا
ایمان قیصرانی
Eman Qaisrani

Comments
Post a Comment