Kinara Kis Ne Daikha Hai
کنارہ کِس نے دیکھا ہے
Kinara Kis Ne Daikha Hai
اُفق کیا ہے
یہی پرواز کا تھک کر سِمٹ جانا
رسائی سے ذرا پہلے
مسافر کا کہیں رستے میں مر جانا
کسی دہلیز کی نسبت سے دٗوری
اور مجبوری
زمین و آسماں کے درمیاں
موہوم سا نقطہ
مِرے انفاس کو
اُن کے مدور دائروں میں
رقص کرنے دو
اِنہیں جاں سے گزرنے دو
یہ سرحد پار کرنے دو
محبت کے سمندر کا
کنارہ کِس نے دیکھا ہے
بھلا ایسی زمینوں پر
کِسی خط ِ کشیدہ کا
اشارہ کِس نے دیکھا ہے
جہاں آنکھیں ٹھہر جائیں
وہی آفاق کی حد ہے
شاہین مفتی
Shaheen Mufty

Comments
Post a Comment