Kis Ke Hathon Se Gira Hai Gul e Tar Pani Mein Uski Taseer Hawa Mein Hai Asar Pani Mein
کِس کے ہاتھوں سے گِرا ہے گُل ِ تر پانی میں
اُس کی تاثیر ہوا میں ہے اثر پانی میں
Kis Ke Hathon Se Gira Hai Gul e Tar Pani Mein
Uski Taseer Hawa Mein Hai Asar Pani Mein
بس اِسی خوف سے پڑتے ہیں بھنور پانی میں
ڈوب جائیں نہ کہیں شمس و قمر پانی میں
موج ِ لرزیدہ پلٹ آئی ہے ساحل کی طرف
چُھپ کے بیٹھے ہیں یہ کس طرح کے ڈر پانی میں
کوئی صحراؤں میں رہتا ہے بگولہ بن کر
اور کچھ لوگ بنا لیتے ہیں گھر پانی میں
اُس پہ کُھلتا ہے کسی روز یہ دریائے حیات
اپنی اِک عمر جو کرتا ہے بسر پانی میں
عکس و آئینہ کی تمثیل سمجھتے ہیں اِسے
اپنا چہرہ جنہیں آتا ہے نظر پانی میں
شاہین مفتی
Shaheen Mufty

Comments
Post a Comment