Mousam Yaad Yun Ijlat Mein Na Ware Jaein Hum Woh Lamhe Hein Jo Fursat Se Guzare Jaein
موسم یاد یوں عجلت میں نہ وارے جائیں
ہم وہ لمحے ہیں جو فرصت سے گزارے جائیں
Mousam Yaad Yun Ijlat Mein Na Ware Jaein
Hum Woh Lamhe Hein Jo Fursat Se Guzare Jaein
ہو کے رسوا وہ ہوا جس کی کبھی حسرت تھی
ہم ترے نام سے محفل میں پکارے جائیں
آپ کا حسن ہے جتنا بھی نمائش کیجیے
ہاں بس اتنا ہے کہ معصوم نہ مارے جائیں
یاں سے اب راہ عدم سوئے فلک جاتی ہے
آئیے پاؤں ہواؤں میں اتارے جائیں
اک ترے نام کا تھا ساتھ کہ اب وہ بھی نہیں
اب ترے شہر بھلا کس کے سہارے جائیں
خامشی توڑ کے سر لے لی یہ کیسی وحشت
ایسا لگتا ہے کہ بس تم کو پکارے جائیں
ہو چکا _ تنگ میں زندان خموشاں سے بہت
کچھ پرندے ہی مری چھت پہ اتارے جائیں
زندگی بھی تو کبھی موجوں سے لڑ کر دیکھے
صرف کیا ہم کو غرض ہے کہ کنارے جائیں
آج کی رات اندھیروں کی ہے درکار مجھے
آج کی رات مری چھت سے ستارے جائیں
کلدیپ کمار
Kaldeep Kumar

Comments
Post a Comment