Mujh Ko Hai Hijar Ab Toh Is Qadar Sazgar Ae Gardish e Dauran ! Mujhe Tu Sogwar Kar
مجھ کو ہے ہجر اب تو اس قدر سازگار
اے گردشِ دوراں! مجھے تو سوگوار کر
Mujh Ko Hai Hijar Ab Toh Is Qadar Sazgar
Ae Gardish e Dauran ! Mujhe Tu Sogwar Kar
آیا ہے لوٹ کر وہی یادوں کا ایک ہجوم
دل کے نگر کو پھر سے ذرا بے قرار کر
منزل کی جستجو میں بھٹکتا رہا ہے دل
تھک کر گرا ہوں اب مجھے تو سنگسار کر
تیری گلی کے موڑ پہ بیٹھا ہوں آج بھی
آجا کہ اب تو ختم میرا انتظار کر
دنیا کی رونقوں سے طبیعت الجھ گئی
تنہائیوں کی دھول سے مجھ کو غبار کر
دیکھوں میں تیرے عکس کو ہر سو بکھرتے ہوئے
آئینہِ خیال کو اب تار تار کر
لکھے گا تیری یاد میں نغمے نئے وہی
بابر کے اب قلم کو ذرا شاہسوار کر
ممتاز بابر
Mumtaz Babar

Comments
Post a Comment