Nakam Ho Ke Lota Safar Ke Nishan Par Jis Ko Bada Ghuroor Tha Onchi Udan Par
ناکام ہو کے لوٹا سفر کے نشان پر
جس کو بڑا غرور تھا اونچی اڑان پر
Nakam Ho Ke Lota Safar Ke Nishan Par
Jis Ko Bada Ghuroor Tha Onchi Udan Par
فاقہ زدوں کا حال چھپائے نہ چھپ سکا
بوسیدہ پیراہن ہے تو نالے زبان پر
بھنورے کی بیخودی کا بھی عالم ہے لاجواب
قربان ہو رہا ہے کلی کی اٹھان پر
وہ جس نے اپنے آپ سے بیگانہ کر دیا
قربان کیوں نہ جاؤں میں اُس مہربان پر
احوال ان کے دل کا بھی ظاہر نہ ہو سکا
شکوہ نہ لائے ہم بھی کبھی اس زبان پر
اپنی بہارِ زیست پہ رنگِ خزاں ہے آج
پھر بھی کوئی گِلہ ہی نہیں باغبان پر
محمود چوہدری
Mehmood Chaudhary

Comments
Post a Comment