Phir Koi Naghma Jan Chaid Keh Shab Baqi Hai An Suna Geet Koi Raqs Gah Anjum Mein
پھر کوئی نغمۂ جاں چھیڑ کہ شب باقی ہے
ان سنا گیت کوئی رقص گہہ انجم میں
Phir Koi Naghma Jan Chaid Keh Shab Baqi Hai
An Suna Geet Koi Raqs Gah Anjum Mein
الجھے الجھے ہوئے بالوں سے الجھتا ہوا گیت
مہکی مہکی ہوئی سانسوں میں سلگتا ہوا گیت
پھر سجایا ہے ہتھیلی پہ ترے نام کا دیپ
اور ہواؤں سے الجھتے ہیں، سنبھل جاتے ہیں
سلسلے خواب کے بد مست ہوا کے ساتھی
دل میں اک جوت جلاتے ہیں، بجھا جاتے ہیں
میرے تکیے پہ سجی ہے کوئی بیکل خواہش
سوچتی ہوں کہ اسے نیند کی وادی لے جاؤں
اپنی سہمی ہوئی بانہوں کا بنا کر گھیرا
سنگ اپنے ہی رکھوں، دور نہ ہونے پاؤں
ان سنا گیت کوئی رقص گہہِ انجم میں
پھر کوئی نغمۂ جاں چھیڑ کہ شب باقی ہے
شائستہ مفتی
Shaista Mufty

Comments
Post a Comment