Roz Sham Hoti Hai Roz Hum Sanwarty Hein Phool Saij Ke Yun Hi Sokhtay Bikharty Hein
روز شام ہوتی ہے روز ہم سنورتے ہیں
پھول سیج کے یوں ہی سوکھتے بکھرتے ہیں
Roz Sham Hoti Hai Roz Hum Sanwarty Hein
Phool Saij Ke Yun Hi Sokhtay Bikharty Hein
دل کو توڑنے والے تو کہیں نہ رسوا ہو
خیر تیرے دامن کی چشم تر سے ڈرتے ہیں
صبح ٹوٹ جاتا ہے آئینہ تصور کا
رات بھر ستاروں سے اپنی مانگ بھرتے ہیں
زور اور کیا چلتا، فصل گل میں کیا کرتے
بس یہی کہ دامن کو تار تار کرتے ہیں
یا کبھی یہ حالت تھی، زخم دل سے ڈرتے تھے
اور اب یہ عالم ہے چارہ گر سے ڈرتے ہیں
یوں ترے تصور میں اشکبار ہیں آنکھیں
جیسے شبنمستاں میں پھول رقص کرتے ہیں
خوں ہمیں رلاتی ہے راہ کی تھکن بانوؔ
جب ہماری نظروں سے کارواں گزرتے ہیں

Comments
Post a Comment