Shareek e Gul Bhi Raha Aawara e Saba Bhi Raha Aur Apni Zaat Ke Sahra Mein Lapata Bhi Raha
شریکِ گل بھی رہا آوارۂ صبا بھی رہا
اور اپنی ذات کے صحرا میں لاپتہ بھی رہا
Shareek e Gul Bhi Raha Aawara e Saba Bhi Raha
Aur Apni Zaat Ke Sahra Mein Lapata Bhi Raha
ملے ہر ایک سے طعنے سلامتی کے مجھے
کسے خبر کہ میں اندر سے ٹوٹتا بھی رہا
ہوئی عجیب زمانے میں پرورش میری
کمر تنی بھی رہی، ہاتھ میں عصا بھی رہا
وہ مجھ سے چاہتا کیا تھا، مجھے خبر نہ ہوئی
بکھیرتا بھی رہا اور سمیٹتا بھی رہا
کٹی ہے عمر مظفر عجب دوراہے پر
میں اپنے آپ سے خوش بھی رہا، خفا بھی رہا
مظفر وارثی
Muzafar Warsi

Comments
Post a Comment