Tasawurat Ki Dunya Sajaye Baithay Hein Kisi Ki Usko Dil Se Lagaye Baithay Hein
تصورات کی دنیا سجائے بیٹھے ہیں
کسی کی آس کو دل سے لگائے بیٹھے ہیں
Tasawurat Ki Dunya Sajaye Baithay Hein
Kisi Ki Usko Dil Se Lagaye Baithay Hein
نجانے کس گھڑی آ جائیں ڈھونڈتے ہم کو
چراغ دن میں بھی در پر جلائے بیٹھے ہیں
فریب عمر دو روزہ کا کھائے بیٹھے ہیں
بتائیں کیا کہ جو صدمہ اٹھائے بیٹھے ہیں
سنا ہے جب سے دعائیں قبول ہوتی ہیں
دعا کو ہاتھ ہم اپنے اٹھائے بیٹھے ہیں
نہ پوچھ کیسے شب انتظار گزری ہے
نہ چھیڑ ہم کو صبا، ہم ستائے بیٹھے ہیں
خبر کہاں ہے زمانے کی سوزؔ ہم اس کو
کسی کے عشق میں خود کو بھلائے بیٹھے ہیں
سردار خان سوزؔ
Sardar Khan Soz

Comments
Post a Comment