Tujhe Kho Kar Muhabbat Ko Ziada Kar Lia Main Ne Yeh Kis Hairat Mein Kushada Kar Lia Main Ne
تجھے کھو کر محبت کو زیادہ کر لیا میں نے
یہ کس حیرت میں آئینہ کشادہ کر لیا میں نے
Tujhe Kho Kar Muhabbat Ko Ziada Kar Lia Main Ne
Yeh Kis Hairat Mein Kushada Kar Lia Main Ne
مجھے پیچیدہ جذبوں کی کہانی نظم کرنا تھی
سو جتنا ہو سکا، اسلوب سادہ کر لیا میں نے
محبت کا سنا تھا ذات کی تکمیل کرتی ہے
مگر اس آرزو میں خود کو آدھا کر لیا میں نے
شکستِ خواب پر ہی خواب کی بنیاد رکھنا تھی
در امکان پھر سے ایستادہ کر لیا میں نے
نئی رت میں محبت کا اعادہ چاہتا تھا وہ
پرانے تجربے سے استفادہ کر لیا میں نے
سرِ ساحل مجھے پیچھے سے اب آواز مت دینا
یہاں سے پار جانے کا ارادہ کر لیا میں نے
سجاد بلوچ
Sajad Baloch

Comments
Post a Comment