Woh Dil Nahi Raha Woh Muhabbat Nahi Rahi Ab Zindagi Se Koi Shikayat Nahi Rahi
وہ دل نہیں رہا وہ محبت نہیں رہی
اب زندگی سے کوئی شکایت نہیں رہی
Woh Dil Nahi Raha Woh Muhabbat Nahi Rahi
Ab Zindagi Se Koi Shikayat Nahi Rahi
اس بار کوئی زخم بھی گہرا نہیں لگا
مجھ پر ستمگروں کہ عنایت نہیں رہی
جائیں کہاں سمیٹ کے اپنی اداسیاں
کہتے تھے گھر جسے وہ عمارت نہیں رہی
اک دم سے ان کی یاد گئی تو نہیں مگر
اب فکر میں وہ پہلے سی کثرت نہیں رہی
آنسو ہی پونچھتا یا مرے زخم چومتا
اتنی بھی اب کے یار کو فرصت نہیں رہی
محفل ہے حسرتوں کی، خیالوں کا ہے ہجوم
تنہائی میں بھی اب کوئی خلوت نہیں رہی
شاید مجھے بھی اب کے وہ کچھ مہرباں لگا
شاید اسے بھی مجھ سے شکایت نہیں رہی
کہتے ہیں اب کے دیں گے ہر اک بات کا جواب
مجھ میں ہی جب سوال کی طاقت نہیں رہی
مرنے نے میرے سب کو فرشتہ بنا دیا
دشمن کے بھی دلوں میں کدورت نہیں رہی
پہلے تو لطف شدت غم کی خوشی رہی
پھر یوں ہوا کے غم میں بھی شدت نہیں رہی
کہتے کے جا، خدا کی اماں میں دیا تجھے
وقت جدائی اتنی بھی مہلت نہیں رہی
مریم فاطمہ
Maryam Fatima

Comments
Post a Comment