Yeh Kia ? Teri Yaad Ka Samandar Bhi Rafta Rafta Utar Raha Hai Jihaz Dooba Hi Tha Keh Dil Mein Naya Jazeera Ubhar Raha Hai
یہ کیا ؟ تری یاد کا سمندر بھی رفتہ رفتہ اُتر رہا ہے
جہاز ڈُوبا ہی تھا کہ دِل میں نیا جزیرہ اُبھر رہا ہے
Yeh Kia ? Teri Yaad Ka Samandar Bhi Rafta Rafta Utar Raha Hai
Jihaz Dooba Hi Tha Keh Dil Mein Naya Jazeera Ubhar Raha Hai
کِسے یہ فُرصت سرھانے رکھّی نئی کتابوں کا حال پُوچھے
پِھر آج دن بھر پُرانا اخبار ذہن کی میز پر رہا ہے
دوائیں ششدر ہیں اور اک دُوسرے سے کہتی ہیں، دیکھو دیکھو
مٹاتا جاتا ہے داغ کو داغ زخم کو زخم بھر رہا ہے
کھنڈر کو پِھر سے محل بنانے میں وقت کُچھ تو لگے گا شارقؔ
ابھی تو وہ دھیرے دھیرے دِل کی شکستہ سیڑھی اُتر رہا ہے
سعید شارقؔ
Saeed Shariq

Comments
Post a Comment