Yeh Shehar Roz Hi Basta Hai , Roz Ujadta Hai Magar Ghaneem Ko Kia Is Se Farq Padta Hai
یہ شہر روز ہی بستا ہے، روز اجڑتا ہے
مگر غنیم کو کیا اس سے فرق پڑتا ہے
Yeh Shehar Roz Hi Basta Hai , Roz Ujadta Hai
Magar Ghaneem Ko Kia Is Se Farq Padta Hai
خدا نے ہم میں کیا قدر مشترک رکھی
کہ میری آنکھ، ترے لب سے پھول جھڑتا ہے
ہمارے ساتھ محبت کا جو سلوک بھی ہو
سوال یہ ہے کہ دنیا کا کیا بگڑتا ہے
یہی پسند نہیں ہے مجھے محبت میں
یہ روز روز جو دنیا سے کام پڑتا ہے
کچھ ایسی جم گئی سنجیدگی مرے رخ پر
کسی طرح سے یہ پتھر نہیں اکھڑتا ہے
ابھی جلے تھے، ابھی بجھ بجھا گئے تابشؔ
ہواؤں سے تو کوئی دم دیا بھی لڑتا ہے
عباس تابشؔ
Abas Tabish

Comments
Post a Comment