Latest Post
Loading...

Jahan Ma'abod Tehraya Gaya Hon,Wahein Sooli Pe Latkaya Gaya Hon




رئیس امروہوی کا اصل نام سید محمد مہدی تھا اور وہ 12 ستمبر 1914ء کو امروہہ میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد علامہ سید شفیق حسن ایلیا بھی ایک خوش گو شاعر اور عالم انسان تھے۔ رئیس امروہوی کی عملی زندگی کا آغاز صحافت سے ہوا۔ قیام پاکستان سے قبل وہ امروہہ اور مراد آباد سے نکلنے والے کئی رسالوں سے وابستہ رہے۔ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے کراچی میں سکونت اختیار کی اور روزنامہ جنگ کراچی سے بطور قطعہ نگار اور کالم نگار وابستہ ہو گئے، اس ادارے سے ان کی یہ وابستگی تا عمر جاری رہی۔
رئیس امروہوی کے شعری مجموعوں میں الف، پس غبار، حکایت نے، لالہ صحرا، ملبوس بہار، آثار اور قطعات کے سات مجموعے شامل ہیں جبکہ نفسیات اور مابعدالطبیعات کے موضوعات پر ان کی نثری تصانیف کی تعداد ایک درجن سے زیادہ ہے۔
رئیس امروہوی کے بھائی سید محمد تقی اور جون ایلیا بھی اردو ادب کی معروف شخصیات میں شامل ہیں۔ وہ 22 ستمبر 1988ء کو ایک نامعلوم قاتل کی گولیوں کا نشانہ بن گئے اور کراچی میں سخی حسن کے قبرستان میں آسودہ خاک ہوئے ۔

جہاں معبود ٹھہرايا گيا ہوں
وہيں سولی پہ لٹکايا گيا ہوں
سنا ہر بار ميرا کلمہء صدق
مگر ہر بار جھٹلايا گيا ہوں
عجب اک سّرِ مبہم ہے مری ذات
نہ سمجھا ہوں نہ سمجھايا گيا ہوں
مرے نقشِ قدم نظروں سے اوجھل
مگر ہر موڑ پر پايا گيا ہوں
کبھی ماضی کا جيسے تذکرہ ہو
زباں پر اس طرخ لايا گيا ہوں
مثالِ وحی حق انسانيت کے
ہر اک وقفے ميں دہرايا گيا ہوں
جو موسی ہوں تو ٹھکرايا گيا تھا
جو عيسی ہوں تو جھٹلايا گيا ہوں
جہاں ہے رسم قتلِ انبيا کی
وہاں مبعوث فرمايا گيا ہوں
بطورِ فديہ قربان گاہ کی سمت
کہاں سے ہانک کر لايا گيا ہوں
ابھی تدفين باقی ہے ابھی تو
لہو سے اپنے نہلايا گيا ہوں
دوامی عظمتوں کے مقبرے ميں
ہزاروں بار دفنايا گيا ہوں
ميں اس حيرت سرائے آب و گل ميں
بحکمِ خاص بھجوايا گيا ہوں
کوئ مہمان ناخواندہ نہ سمجھے
بصد اصرار بلوايا گيا ہوں
بطورِ ارمغاں لايا گيا تھا
بطورِ ارمغاں لايا گيا ہوں
ترس کيسا کہ اس دارالبلا ميں
ازل کے دن سے ترسايا گيا ہوں
اساسِ ابتلا محکم ہے مجھ سے
کہ ديواروں ميں چنوايا گيا ہوں
کبھی تو نغمہء داؤد بن کر
سليماں کے لئے گايا گيا ہوں
کبھي يعقوب کے نوحے ميں ڈھل کر
در محبس پہ دہرايا گيا ہوں
ظہور و غيب و پيدا و نہاں کيا
کہيں کھويا کہيں پايا گيا ہوں
نجانے کونسے سانچے ميں ڈھاليں
ابھی تو صرف پگھلايا گيا ہوں
جہاں تک مہرِ روز افروز پہنچا
وہيں تک صورتِ سايہ گيا ہوں

0 comments:

Post a Comment

 
Toggle Footer